Search This Blog

Saturday, 12 August 2017


میرے ووٹ کا احترام کرو


میری نظر میں مسلم لیگ (ن) کی اس ریلی کا مقصد بہت اعلیٰ ہے کہ میرے ووٹ کا احترام کرو۔ یہ ریلی ۹اگست کو اسلام آباد سے شروع ہوئی اوربراستہ جرنیلی سڑک ہوتی ہوئی اس کی منزل لاہور ہے۔ اسلام آباد سے شروع ہونے والی اس ریلی میں عوام کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی اور شہر بہ شہر اس میں لوگوں کی تعداد برھتی ہی رہی۔ جبکہ ناقعدین کی نظر میںیہ ریلی نکام رہی۔ میری نظر میں دونوں ہی اپنی اپنی جگہ صییح ہیں ۔ یہ اس مملکت خداداد کی بد قسمتی ہے کہ آج تک کوئی بھی سول حکومت اپنی مدت پوری نہیں کر سکی۔ مملکت خداداد پاکستان کو بنے ستر سال ہو گیے ہیں۔ ان ستر سالوں میں پاکستان کو چار بار مارشل لاء کا منہ دیکھنا پڑا اس طرح پاکستان چالیس سال تک فوجی حکومتوں کے زیراثر رہا ۔ قطعہ نظر اس کے کہ پاکستان میں جمہوری طرز حکومت رائج ہے مگر پاکستان میں جمہوری اقدار ناں ہونے کے برابر ہیں۔ جس کا نتیجہ پاکستان آج اپنی قسمت کے ایک خطرناک دوراہے پر کھڑا ہے۔ ملک یا ریاستیں ہمیشہ مظبوط اور فعال اداروں سے چلتے ہیں مگر ہماری بدنصیبی کہ ہمارے ہاں مظبوط اور فعال اداروں کا فقدان ہے۔ نتیجہ ہم آزادی کے ستر سال گزرنے کے باوجود غلامی سے چھٹکارا نہیں پا سکے۔ ہمیشہ سے تقسیم ہی رہے لوگوں کا جھنڈ ہی رہے ایک قوم نہ بن سکے۔ ہم شاہدپنجابی ، سندھی، پٹھان اور بلوچی تو ہیں مگر پاکستانی نہیں ہیں،پاکستان ایک ایسی سوسایٹی بن چکا ہے جہاں انصاف، برداشت،ر واداری تقریبا ناپید ہو چکے ہیں۔ جمہوری یا پارلیمانی طرز حکومت میں پارلیمنٹ یا مجلس شورہ کو قلیدی اہمیت حاصل ہوتی ہے اور اسے مملکت کے تمام اداروں پے بالادستی حاصل ہوتی ہے ۔ مگر بدقسمتی سے پاکستان میں پارلیمنٹ یا مجلس شورہ کو اس کا جائز مقام حاصل نہیں۔ اسلیے غیر سیاسی قوتیں ہمیشہ سے پاکستان کے خلاف سازشیں کرتیں رہتی ہیں لہذا ووٹ کی حرمت ہمیشہ پامال ہوتی رہتی ہے۔ زندہ اور باضمیر قوموں میں ووٹ کو بڑی اہمیت حاصل ہوتی ہے یہ ملکی اور سیاسی معاملات میں عوام کی شراکت کا ذامن ہوتا ہے ۔ ووٹ کی حرمت کا بار بار پامال ہونا عوا م کی عزت اور رائے کا پامال ہونا ہے۔ 

اسلیے میری نظر میں مسلم لیگ (ن) کی اس ریلی کا مقصد بہت اعلیٰ ہے کہ میرے ووٹ کا احترام کرویعنی میرا احترام کرو،بحثیت انسان میرا یہ حق ہے کہ میری عزت کی جائے میری سوچ اور میری رائے کا احترام کیا جائے۔ دنیا کے ہر ملک میں عوام اپنے حق کہ لیے نکلتے ہیں۔ مسلم لیگ والے جانتے ہیں کہ اس ریلی سے نواز شریف نے بحال نہیں ہونا نا اس لیے اس ریلی کا مقصد ووٹ کے احترام کے سوا کچھ نہیں۔ اور عوام کے جم غفیر سے عیاں ہے کے یہ ریلی کامیاب ہے۔ مگر ہماری قوم جو شروع سے ہی تقسیم ہے اس اہم ایشو پر بھی تقسیم ہوکر رہ گئی ہے اور اس ریلی کو صرف مسلم لیگ (ن) کی ریلی بنا کر رکھ دیا ہے۔ اس پر اتنی تنقید اوطعن و تشین کے تیر چلا رہے ہیں، مذاق اڑا رہے ہیں نتیجہ یہ صرف مسلم لیگ (ن) کی ریلی ہے جس نے لاہور پہنچ کربے مقصدہی ختم ہو جانا ہے ۔ اور میرے ووٹ کااحترام اور میری شناخت ایک خواب ہی رہ جانا ہے ۔

Tuesday, 30 August 2016

الطاف حسین اور الطاف حسین کے پیدا کیے مسائل اور نظریات پاکستان اور پاکستان کے لوگوں کے لیے نئے نہیں ہیں۔ موصوف ۱۴ اگست ۱۹۷۹ کو مزار قائد پہ پاکستان کا سبز ہلالی پرچم نظر آتش کرنے کے بعد سے لے کر ۲۲ اگست ۲۰۱۶ کے ایم کیو ایم کے بھوک ہڑتالی کیمپ میں پاکستان کے خلاف تقریر کرنے تک ہر ہر واقعہ اور بات لگاتار خبروں کی زینت ہے ۔اور پاکستانی میڈیا اور پاکستانی سیاست کے تمام سر خیلوں نے اس کارخیر میں نمایاں حصہ لیا ہے۔گھر آئے جمائی کی طرح الطاف حسین کو ہاتھو ں ہاتھ لیا گیا۔ پاکستانی میڈیا تو خیر ویسے ہی کسی کے کہنے میں نہیں اس لیے زیادہ سے زیادہ نشریاتی وقت دیا جاتا رہا یہ جانتے ہوئے بھی کہ جب بھی موقع ملے موصوف پاکستان کے خلاف بولنااپنا فرض عین سمجھتے ہیں۔ الطاف حسین المعروف قائد تحریک نے تحریک کے بجائے ہمیشہ اپنی زات کو افضل رکھا اور اکژاپنی پارٹی کے عہداداروں، قائدین کو عام کارکنوں اور عوام سے بھرئی محفل میں پٹوایا اور گالیاں دیں۔

پاکستان کے اسلامی مارشل لاء سے لے کر لبرل مارشل لاء تک اور فوجی سے لے کر سیاسی حکومتوں تک
 سے سیاسی فائدے حاصل کیے۔ جب دل کیا حکومت کا ساتھ دیا جب دل کیااسمبلیوں اور حکومتی اتحاد سے استعفے دے دیے۔ اپنے فائدے کے لیے پاکستان کے تقریباتمام سیاستدانوں سے اتحاد کیا یا دوسرے لفظوں میں تمام سیاستدانوں نے بھائی کو استمعال کیا۔ اور اس کے بدلے میں سٹریٹجک مدد حاصل کی۔ ؛ حتکہ درینا دشمن کی خفیہ ایجنسی تک سے جا ہاتھ ملایا۔خاص طور پر کراچی میں اسلحے اور ڈر و خوف کا بازار گرم کردیاگیا۔ جس کا فائدہ وقت کے حکمرانوں سمیت کئی لوگوں نے اٹھایا۔یہاں تک کہ ایک ظالم مگر ڈرپوک ڈکٹیٹر کے کہنے پہ ۱۲ مئی کا خون آشام واقعہ برپا کردیا جس میں کراچی کی سڑکیں خون سے نہلا دیں گیں۔ 

اس ساری خون آشامی اور طوفان بدتمیزی سے قطعہ نظر الطاف حسین پاکستانی سیاست کی ایک انتہائی غیرزمادار شخصیت ہیں۔ بھائی کی وجہ سے اکثر بھائی کی پارٹی کو بیک فٹ پر آنا پڑجاتا ہے۔ ۲۲ اگست کی تقریر اور اس سے متصل دیگر واقعات کی وجہ سے ایم کیو ایم پر کڑا وقت آیا ہوا ہے ۔ حتکہ ایم کیو ایم کو الطاف حسین سے لا تعلقی کا اظہار کرنا پڑگیا ہے۔ ڈنڈا ان کو اب پاکستان زندہ باد سمیت ہر ہر مطالبہ ماننے پہ مجبور کر رہا ہے۔ یہاں تک کے ایم کیو ایم اب اپنا پارٹی منشور تک بدلنے پہ رضامند نظر آتی ہے۔مگر ان سب کے باوجود یہ مسلہ حل ہوتا نظر نہیں آتا۔ قوت کے ذور پہ ہر وہ حربہ استمعال کیا جا رہا ہے جو آگے چل کہ بہت خرناک نتائیج کاپیش خیمہ بن سکتا ہے۔


اس مسلے کو طاقت کی بجائے عقل و فہم سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ پہلے تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ یہ مسلہء ہم سب کا پیدا کیا ہوا ہے لہذا اسے حل بھی ہم نے کرنا ہے۔ الطاف حسین نے کبھی بھی برطانیہ کے خلاف ہرزاہ سرآئی نہیں کی لہذا برطانیہ کبھی بھی الطاف حسین کے خلاف کاروائی نہیں کرے گا اور ناہی پاکستان کے حوالے کرے گا۔ کیونکہ پہلے تو ہمارا برطانیہ سے ایسا کوئی معائدہ نہیں ہے دوسرا برطانیہ اپنا شہری کسی بھی ایسے ملک کے حوالے نہیں کرئے گا جس میں سزاموت کا قانون ہو۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ برطانیہ کے سفیر کو وزارت خارجہ بلا کہ اپنا احتجاج ریکارڈ کروانہ چاہیے۔ دوسرا وہاں موجود پاکستانی کیمونٹی کی مدد سے قانونی کاروائی شروع کی جائے مکمل ثبوتوں کے ساتھ۔ اس کے علاوہ اس کا اور کوئی حل نہیں۔ 

Saturday, 12 December 2015

40 Rules of Love

Rule 1:

How we discover God is a direct expression of how we view ourselves. If God brings to mind mostly fear and blame, it implies there is mostly fear and blame welled inside us. If we view God as full of passion and compassion, so are we.
Aamer: Your passion and compassion belong to your lover.

Rule 2:     

The Path to the Truth is a confinement of the gist, not of the mind. Make your heart your primary guide. Not your mind. Meet, challenge, and ultimately prevail over your nafs (false ego) with your heart. Knowing your ego (higher self/soul) will lead you to the knowledge of God.
Aamer: You have to overcome your egos.

Rule 3:

Each and every reader comprehends the Qur’an/Bible on a different level in tandem with the depth of his understanding. There are 4 levels of insight. The first level is the outer meaning and it is the one that the majority of people are content with. Next is the Batum- the inner level. Third there is the inner of the inner. And the fourth level is so deep it cannot be put into words and is therefore bound to be indescribable. Scholars who focus on the Sharia/ Bible know the outer meaning. Sufis/ Light workers know the inner meaning. Saints know the inner of the inner. The fourth level is known by prophets and those closest to God. So don’t judge the way other people connect to God. To everyone there is his, own way and his own prayer. God does not take us at our word but looks deep into our hearts. It is not the ceremonies or rituals that make a difference, but whether our hearts are sufficiently pure or not.
Aamer: Don’t judge other people by their appearance.

Rule 4:

You can study God through everything and everyone in the universe, because God is not confined in a mosque, synagogue or church. But if you are still in need of knowing exactly where his abode is, there is only one place to look for him: in the heart of a true lover.
Aamer: He always lives in you.

Rule 5:

Intellect and love are made of two different materials. Intellect ties people in knots and risks nothing, but love dissolves all tangles and risks everything. Intellect is always cautious and advises, “Beware too much ecstasy,” whereas Love says, “Oh never mind. Take the plunge!” Intellect does not easily break down, whereas love can effortlessly reduce itself to rubble. But treasures are hidden amongst ruins. A broken heart hides treasure.
Aamer: You have to associate with people.

Rule 6:

Most of the problems of the world stem from linguistic mistakes and simple misunderstandings. Don’t ever take words at face value. When you step into the zone of love, language as we know it becomes obsolete. That which cannot be put into words can only be grasped through silence.
Aamer: Be Polite and humble to others.

Rule 7:

Loneliness and solitude are two different things. When you are lonely, it is easy to delude yourself into believing you are on the right path. Solitude is better for us, as it means being alone without being lonely. But eventually it is best to find a person, that person will be your mirror. Remember, only in another person’s heart can you truly see yourself and the presence of God within you.
Aamer: Be in like-minded people they are your mirror. 

Rule 8:

Whatever happens in your life, no matter how troubling things may seem, do not enter the neighborhood of despair. Even when all doors remain closed, God will open up a new path only for you. Be thankful!  It is easy to be thankful when all is well. A Sufi/Light-worker is thankful not only for what she/he has been given, but also for what she/he has been denied.
Aamer: Always be thankful to your Lord (Be Positive).

Rule 9:

Patience does not mean to passively endure. It means to be farsighted enough to trust the end result of a process.  What does patience mean? It means to look at the thorn and see the rose, to look at the night and see the dawn. Impatience means to be so short-sighted as to not be able to see the outcome. The lovers (of God) never run out of patience, for they know that time is needed for the crescent moon to become full.
Aamer: Never ever lose hope.

Rule 10:

East, West, South or North makes little difference. No matter what your destination, just be sure to make every journey, a journey within. If you travel within, you’ll travel the whole wide world and beyond.
Aamer: First explore yourself.

Rule 11:

The midwife knows that when there is no pain, the way for the baby cannot be opened and the mother cannot give birth. Likewise for a new self to be born, hardship is necessary. Just as day needs to go through intense heat to become strong, Love can only be perfected in pain.
Aamer: Hardship is the theme of adoration, so be prepare.

Rule 12:

The quest for Love changes us. There is no seeker among those who search for Love who has not matured along the way. The moment you start looking for Love, you start to change within and without.
Aamer: Love can change life.

Rule 13:

There are more fake gurus and false teachers in this world than the numbers of stars in the visible universe. Don’t confuse power-driven self-centered people with true mentors. A genuine spiritual master will not direct your attention to him or herself and will not expect absolute obedience or utter admiration from you, but instead will help you to appreciate and admire your inner self. True mentors are as transparent as glass. They let the Light of God pass through them.
Aamer: Truth is as translucent as crystal.

Rule 14:

Try not to resist the changes that come your way. Instead let the life lives through you. And do not worry that your life is turning upside down. How do you know that the side you are used to is better than the one to come?
Aamer: Change is obvious.

Rule 15:

God is busy with the completion of your work, both outwardly and inwardly. He is fully occupied with you. Every human being is a work in progress that is slowly and inexorably moving towards perfection. We are each an unfinished work of art, both waiting and striving to be completed. God deals with each of us separately because humanity is a fine art of skilled penmanship where every single dot is equally important for the entire picture.
Aamer: Surely He will listen you.

Rule 16:

It’s easy to love a perfect God, unblemished and infallible that He is. What is far more difficult is to love fellow human beings with all their imperfections and defects. Remember one can only know what one is capable of loving. There is no wisdom without love. Unless we learn to love God’s creation, we can neither truly love nor truly know God.
Aamer: It’s very difficult to understand love.

Rule 17:

Real Filth is the one inside. The rest simply washes off. There is only one type of dirt that cannot be cleansed with pure waters, and that is the stain of hatred and bigotry contaminating the soul. You can purify your body through abstinence and fasting, but only love will purify your heart.
Aamer: Purify your inner by love.

Rule 18:

The whole universe is contained within a single human being – You. Everything that you see around, including the things you might not be fond of and even the people you despise or abhor, is present within you in varying degrees. Therefore do not look for Satan outside of yourself either. The devil is not an extraordinary force that attacks from without. It is an ordinary voice within. If you get to know yourself fully, facing with honesty and hardness both your dark and light sides, you will arrive at a supreme form of consciousness. When a person knows himself or herself, he or she knows God.
Aamer: Always recognize yourself.

Rule 19:

If you want to change the way others treat you, you should first change the way you treat yourself. Unless you learn to fully love yourself, fully and sincerely, there is no way you can be loved. Once you achieve that stage, however be thankful for every thorn that others might throw at you. It is a sign that you will soon be showered in roses.
Aamer: First Love yourself wholeheartedly fully and sincerely.

Rule 20:

Fret not where the road will take you. Instead concentrate on the first step. That’s the hardest part and that’s what you are responsible for. Once you take that step let everything do what it naturally does and the rest will follow. Do not go with the flow. Be the flow.
Aamer: Always concentrate on your step.

Rule 21:

We were all created in God’s image and yet we were each created different and unique. No two people are alike. No two hearts beat to the same rhythm. If God had wanted everyone to be the same, He would have made it so. Therefore disrespecting differences and imposing your thoughts on others is tantamount to disrespecting God’s holy scheme.
Aamer: Never ever impose your prophecy on others.

Rule 22:

When a true lover of God goes into a tavern, the tavern becomes his chamber of prayer, but when a wine bibber goes into the same chamber, it becomes his tavern. In everything we do, it is our hearts that make the difference not our outer appearances. Sufis do not judge other people on how they look or who they are. When a Sufi stares at someone, he keeps both his eyes closed and instead opens a third eye – the eye that sees the inner realm.
Aamer: Purification of heart is very vital for love.

Rule 23:

Life is a temporary loan, and this world is nothing but a sketchy imitation of Reality. Only children would mistake a toy for the real thing. And yet human beings either become infatuated with the toy or disrespectfully break it and throw it aside. In this life, stay away from all kinds of extremities, for they will destroy your inner balance. Sufis do not go to extremes. A Sufi always remains mild and moderate.
Aamer: Always be moderate and mild.

Rule 24:

The human being has a unique place amongst God’s creation. “I breathed into him of My Spirit,” God says. Each and every one of us without exception is designed to be God’s delegate on earth. Ask yourself, just how often do you   behave like a delegate, if you ever do so? Remember, it falls upon each of us to discover the divine spirit inside and live by it.
Aamer: Always ascertain whether you behave like a delegate.

Rule 25:

Hell is the here and now. So is heaven. Quit worrying about hell or dreaming about heaven, as they are both present in this very moment. Every time we fall in Love, we ascend to heaven. Every time we hate, envy or fight someone, we tumble straight into the fires of hell. Is there a worse hell than the torment a man suffers when he knows deep down in his conscience that he has done something awfully wrong? Ask that man. He will tell you what hell is. Is there a better paradise than the bliss that descends upon a man at those rare moments in life, when the bolts of the universe fly open and he feels in possession of all the secrets of eternity and united with God? Ask that man. He will tell you what heaven is?
Aamer: Good and bad lies in yourself, so critically analyze yourself.

Rule 26:

The universe is one being. Everything and everyone is interconnected through an invisible web of stories. Whether we are aware of it or not, we are all in a silent conversation. Do no harm. Practice compassion. And do not gossip behind anyone’s back – not even a seemingly innocent remark! The words that come out of our mouths do not vanish, but are perpetually stored in infinite space, and they will come back to us in due time. One man’s pain will hurt us all. One man’s joy will make everyone smile.
Aamer: We all are interconnected with each other in this universe.

Rule 27:

This world is like a snowy mountain that echoes your voice. Whenever you speak, good or evil, it will somehow come back to you. Therefore if there is someone who harbors ill thoughts about you, saying similarly bad things about him will only make matters worse. You will be locked in a vicious circle of malevolent energy. Instead for forty days and nights say and think nice things about that person. Everything will be different at the end of forty days, because you will be different inside.
Aamer: Always lower your voice and speak less.

Rule 28:

The past is an interpretation. The future is an illusion. The world does not move through time as if it were a straight line, proceeding from the past to the future. Instead time moves through us and within us, in endless spirals. Eternity does not mean infinite time, but simply timelessness. If you want to experience eternal illumination, put the past and the future out of your mind and remain within the present moment. The present moment is all there is and all that there will ever be.
Aamer: Always tries to make your present, forget about past and future.

Rule 29:

Destiny doesn’t mean that your life has been strictly predetermined. Therefore to leave everything to fate and to not actively contribute to the music of the universe is a sign of sheer ignorance.  “The music of the universe is all pervading and it is composed on forty different levels. Your destiny is the level where you will play your tune. You might not change your instrument but how well to play is entirely in your hands. ”
Aamer: Your ultimate duty is to firm struggle.

Rule 30:

The true Sufi/Light-worker is such that even when he is unjustly accused, attacked and condemned from all sides, he patiently endures, uttering not a single bad word about any of his critics. She/he never apportions blame. How can there be opponents or rivals or even “others” when there is no “self” in the first place? How can there be any one to blame when there is only One?
Aamer: Always have to be patiently endures.

Rule 31:

If you want to strengthen your faith, you will need to soften inside. For your faith to be rock solid, your heart needs to be as soft as a feather. Through an illness, accident, loss or fright, one way or another, we are all faced with incidents that teach us how to become less selfish and judgmental and more compassionate and generous. Yet some of us learn the lessons and manage to become milder, while some others end up becoming even harsher than before. The only way to get closer to the Truth is to expand your heart so that it will encompass all humanity and still have room for more Love.
Aamer: Always expand your heart to be soft, compassionate and generous.

Rule 32:

Nothing should stand between yourself and God. Not imams, priests, rabbis or any other custodians of moral or religious leadership. Not spiritual masters, not even your faith. Believe in your values and your rules but never lord them over others. If you keep breaking other people’s hearts, whatever religious duty you perform is no good. Stay away from all sorts of idolatry, for they will blur your vision. Let God and only God be your guide. Learn the Truth but be careful not to make a fetish out of your truths.
Aamer: Never impose your vision over others.

Rule 33:                                                          

While everyone in this world strives to get somewhere and become someone, only to leave it all behind after death, you aim for the supreme stage of nothingness. Live this life as light and empty as the number zero. We are no different from a pot. It is not the decorations outside but the emptiness inside that holds us straight. Just like that, it is not what we aspire to achieve but the consciousness of nothingness that keeps us going.
Aamer: Your aim should be, "supreme stage of nothingness".

 Rule 34:

Submission does not mean being weak or passive. It leads to neither fatalism nor capitulation, just the opposite. True power resides in submission – a power that comes from within. Those who submit to the divine essence of life will live in unperturbed tranquility and peace even when the whole wide world goes through turbulence after turbulence.
Aamer: Submission is the real strength of universe that comes from the depth of the heart.

Rule 35:

In this world, it is not similarities or regularities that take us a step forward, but blunt opposites. And all the opposites in the universe are present within each and every one of us. Therefore the believer needs to meet the unbeliever residing within. And the unbeliever should get to know the silent faithful in him. Until the day one reaches the stage of being the perfect human being, faith is a gradual process and one that necessitates its seeming opposite: disbelief.
Aamer: Always explore and understand the uncertainty inside you.

Rule 36:

This world is erected upon the principle of reciprocity. Neither a drop of kindness nor a speck of evil will remain reciprocated. Fear not the plots, deceptions or tricks of other people. If someone is setting a trap remember so is God. He is the biggest plotter. Not even a leaf sits outside of God’s knowledge. Simply and fully believe in that. Whatever God does He does beautifully.
Aamer: Always be confident enough, your Lord is with your side.

Rule 37:

God is a meticulous clock-maker. So precise is His order that everything on earth happens in its own time. Neither a minute later nor a minute early and for everyone without exception the clock works accurately. For each there is a time to love and a time to die.
Aamer: Lo and behold, everything has its own proper time to exist.

Rule 38:

It is never too late to ask yourself, “Am I ready to change the life I am living? Am I ready to change within?” Even if a single day in your life is the same as the day before, it surely is a pity. At every moment and with each new breath, one should be renewed and renewed again. There is only one way to be born into a new life: to die before death.
Aamer: There is never too late to be changed.

Rule 39:

While the parts change, the whole always remains the same. For every thief who departs the world, a new one is born. And every decent person who passes away is replaced by a new one. In this way not only does nothing remain the same but also nothing ever really changes.
Aamer: Remember No one is compulsory for this universe, there is always a replacer.

Rule 40:

 “A life without love is of no account. Don’t ask yourself what kind of love you should seek, spiritual or material, divine or mundane, Eastern or Western…. divisions only lead to more divisions. Love has no labels, no definitions. It is what it is pure and simple. Love is the water of life. And a lover is a soul of fire. The universe turns differently when fire loves water.
Aamer: Only love can make life altered.



Comprehensive by Muhammad Aamer 

Saturday, 24 October 2015

میدان،کربلا میں امام حسین رضی اللہ عنہ کی آخری تقریر


میدان،کربلا میں امام حسین رضی اللہ عنہ کی آخری تقریر



لوگو! تم میں سے ہر ایک شخص جو مجھ سے واقف ہے اور ہر ایک وہ شخص جو مجھے نہیں جانتا، اچھی طرح آگاہ ہو جائے کہ میں تمھارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم) کا نواسا ہوں۔ میرے والد حیدرِکرار علی (رضی اللہ عنہ) اور ماں فاطمہ (رضی اللہ عنہا) بنتِ محمد(صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم) ہیں۔ میرے چچا جعفر طیار (رضی اللہ عنہ) اور میرے بھائی حسن (رضی اللہ عنہ) تھے۔ اس نسبتی فخر کے علاوہ مجھے یہ فخر بھی حاصل ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم) نے مجھے اور میرے بھائی حسن (رضی اللہ عنہ) کو جوانانِ اہل جنت کا سردار بتایاہے۔ اگر تم کو میری اس بات کا یقین نہ ہو تو میر ے نانا کے ابھی تک بہت سے صحابی زندہ ہیں ، تم ان سے میری بات کی تصدیق کر سکتے ہو۔۔ میں نے کبھی وعدہ خلافی نہیں کی ہے، میں نے کبھی نماز قضا نہیں کی اور میں نے کبھی کسی مومن کا قتل نہیں کیا ، نہ ہی آزار پہنچائی ہے۔۔ اگر عیسیٰ (علیہ سلام) کا گدھا بھی باقی ہوتا تو تمام عیسائی قیامت تک اس کی پرورش اور نگہداشت میں مصروف رہتے۔۔


اے لوگو! تم کیسے مسلمان ہواور کیسے امتی ہو کہ اپنے رسول(صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم) کے نواسے کو قتل کرنا چاہتے ہو، نہ تم کو اللہ کا خوف ہے نہ اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم) کی شرم ہے۔ میں نے جب کہ ساری عمر کبھی کسی شخص کو بھی قتل نہیں کیا تو ظاہر ہے مجھ پہ کسی کا قصاص بھی نہیں ہے۔ پھر بتاؤ کہ تم نے میر ے خون کو کس طرح اپنے لیے حلال سمجھ لیا ہے؟ 



میں دنیا کے جھگڑوں سے آزاد ہو کر مدینہ میں اپنے نانا، نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہٰ وسلم) کے قدموں میں پڑا ہوا تھا، تم نے مجھے وہاں بھی نہ رہنے دیا۔ پھر مکہ میں بیت اللہ میں مصروف عبادت تھا۔ تم ،کوفیوں، نے مجھے وہاں بھی چین نہ لینے دیااورمیرے پاس مسلسل خطوط بھیجتے رہے کہ ہم تم کو امامت کا حقدار سمجھتے ہیں اور تمھارے ہاتھ پہ بیتِ خلافت کرنا چاہتے ہیں۔۔ جب تمھارے بلانے کے موافق میں یہاں آیا ہوں تو اب تم مجھ سے برگشتہ ہو گئے ہو۔ اب بھی تم اگر میری مدد کرو تو میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ تم مجھے قتل نہ کرو اور آزاد چھوڑ دو تاکہ میں مکہ یا مدینہ میں جا کر مصروف عبادت ہو جاؤں اور اللہ تعالی خود اس جہاں میں فیصلہ کر دے گا کہ کے کون حق پر تھا اور کون ظالم تھا۔۔



اس تقریر کو سن کر سب خاموش رہے اور کسی نے کوئی جواب نہ دیا۔ تھوڑی دیر انتظار کے بعد حضرت امام حسین (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا کہ:

اللہ کا شکر ہے کہ میں نے تم پر حجت پوری کردی اور تم اب کوئی عذر نہیں پیش کر سکتے۔



(اکبر شاہ خاں نجیب آبادی، تاریخ اسلام أجلد اول، دارالاندلس،صفحہ نمبر ۶۸۹۔۔۔۶۹۹)

Friday, 16 January 2015

Prophet Muhammad (PBUH) is not an ordinary man.

Prophet Muhammad (PBUH) is not an ordinary man. He is a center of our whole civilization, our whole Economy, our whole Political System. He is the reason for our existence. And we are 1.6 Billion population of this planet earth. By disgracing him you people disgracing and hurting 1.6 Billion people. Who believe and love him more than their mothers and Fathers even oneself. You people not only spread hate and enmity on the name of freedom of speech/expression but humiliate the sentiments of Muslims all over word.

He is not an ordinary man but he is a Messenger of God. 1.6 Billion Population of this planet earth believes upon him and loves him more than their mothers and Fathers even oneself. If you people not agreed with us then consider him as a great human being, great lawmaker, great politicians and philanthropist. In Western Society where everyone has right of respect you people should have to learn to respect other societies leaders and key note personals. But unfortunately you people learn only to spread hate and enmity on the name of freedom of speech/expression but humiliate the sentiments of other societies. We respect and honored Jesus and Moses. We equally respect them as we did to Muhammad. They are also the reason of our existence like Muhammad.

Don't you think that disrespecting one nation's leader or leadership is a freedom of speech and your this act will yield war of Civilization? Oh Western World! we know that you are so hypocrite that, there are many issues and personalities (from history and now) where your so called freedom of speech/expiration right are waves off, and ethically and morally you must consider him a Human and his respect.

He is a man who first ever gives charter of Human rights, give equal rights to the women, slaves and non-believers. He is a man whose judgment and vision is largely acceptable not only for the Muslims but for the Jews, Christian and Idolatrous. Even his better enemies recognized him as trustworthy and truthful. He is a man of his words. He is a most successful Leader in human history. His personality is a hallmark for whole mankind as Allah Almighty granted him many attributes at its peak like Calling, Listening, Empathy, Healing, Awareness, Persuasion, Conceptualization, Building community, Stewardship, Vision, Honesty, Credibility, Trust, Services, Encouragement, Visibility, Influence, and Teaching, etc.

It’s a fact that everybody was waiting for Him. Even your own religious books praises and waiting him. And it’s also a proved fact that most Merciful, owner of all Universes send him as a Mercy for whole universes.

We the Muslim didn’t disgrace or disrespect Jesus and Moses and others, although we praise them and consider them holy, so ethically and morally you should respect our Prophet Muhammad (PBUH). Think about it…

#ImMuhammad & #ImAhmad and #IcondemnCharliHebdo 

Tuesday, 23 December 2014

I suggest that as Pakistan is in a state of War so, Government should institute a Revolutionary Command Council (RCC) headed by President of Pakistan and have members included Services chiefs, ISI and IB head, Prime minister (as Convener), Governors and CM of all the four provinces, Key Political Parties head (Political Parties having more than 10 Seats in the Parliament) and all the four IGPs. The RCC should be responsible for overall security and economy situation of Pakistan...

Monday, 22 December 2014


کسی دور افتادہ گاؤں میں لوگوں نے مسجد میں ختمِ قرآن پاک کی محفل کا انعقاد کرنے کا فیصلہ کیا ۔ اس مقصد کے لیے گاؤں والوں کے باہمی مشورے سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ مسجد میں ایک ڈرم رکھ دیا جائے ۔ اور اس ڈرم میں گاؤں کا ہر شخص ایک ایک گلاس دودھ کا ڈالے تاکہ مقررہ دن ختم کے لئے کھیر پکائی جا سکے ۔ گاؤں کے ایک غریب آدمی نے سوچا کہ کل اس ڈرم میں پورا گاؤں اپنا اپنا حصہ ڈالے گا تو میں اپنے حصے کئے دودھ کے گلاس کی بجائے پانی کا گلاس ڈال دیتا ہوں کسی کو بھلاکیا پتا چلے گا۔سو اس نے ڈرم میں دودھ کے گلاس کی بجائے پانی کا گلاس ڈال دیا۔ صبح ہوئی تو وہ ڈرم دودھ کی بجائے پانی سے لبالب بھرا تھا۔ 
ہم سب بھی اسی شخص کی طرح ہیں معاشرے کی اصلاح ہر کوئی کرنا چاہتا ہے۔ تبدیلی کا خواں ہے۔ اس مقصد کے لیے بڑی بڑی دھواں دار تقاریر اور باتیں کرتا ہے۔ مگر اپنے حصے کا دودھ ڈالنے کی بجائے پانی ڈال دیتا ہے۔ نتیجہ کھیر نہیں بن سکتی۔ معاشرے کی اصلاح نہیں ہو سکتی۔تبدیلی نہیں آسکتی۔ ہم سب بھی عملی طور پر غریب ہیں۔باتوں کے وقت ہم سے بڑا کوئی طرم خاں نہیں مگر عمل کے وقت ہم ہمیشہ یہ امید رکھتے ہیں کہ دوسر ا شخص ایماندار بھی ہو اور صاف شفاف بھی اور کھرا بھی۔ بدلے بھی تو وہ بدلے میں تو ایک دم ایماندارصاف شفاف اور کھرا ہوں۔ اصلاح کی ضرورت تو فریق مخالف کو ہے۔ اپنا محاصبہ کوئی نہیں کرتا۔ سرکار عالی شان صل اللہ علیہ و آلہ وصلم کا فرمان ہے کہ جب تم میں سے نیکی و بدی کا فرق ختم ہو جائے تو سمجھ لو کہ ایمان ختم ہو گیا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سے ہر ایک یہ سوچے کہ جو اس کے لیے بری ہے وہ ہی دوسرے کی ہے اور معاشرے کی اصلاح سے پہلے اپنی ذاتی اصلاح کی اشد ضرورت ہے۔

Saturday, 20 December 2014

ہم اللہ عزوجل سے اپنی عقل و وسمجھ کے مطابق مانگتے ہیں مگر وہ ہمیں اپنی عقل و سمجھ کے مطابق عطا کرتا ہے اور بے شک اللہ عزوجل کی عقل و سمجھ ہی کامل ہے۔

تقریبا تمام پاکستانی سیاسی جماعتیں بشمول عمران خان کی جماعت جماعتیں کم اور سیاسی قبائل زیادہ ہیں ۔ ان سیاسی قبائل میں تمام سربراہ ہمیشہ بلامقابلہ منتخب ہوتا ہے۔ پہلے تو کوئی بھی ان کے خلاف کھڑا نہیں ہوتا اور اگر ہو بھی جائے تو اس کو یا زبردستی بٹھا دیا جاتا ہے یا پھر اسے پارٹی سے نکال دیا جاتا ہے۔ بعض میں تو انتخابات ہی نہیں ہوتے۔ صرف ایک جماعت ایسی ہے جس میں صییح معنوں میں الیکشن ہوتے ہیں اور جماعت کا کوئی بھی فرد الیکشن میں آزادانہ حصہ لے سکتا ہے۔ مگروہ جماعت مولویوں کی جماعت ہے سواسے کوئی ویسے ہی ووٹ نہیں دیتا۔ عمومی تاثر ہے کہ ووٹ خراب کرنا ہو تو جماعت اسلامی کو دے دو۔ دیگر ان سیاسی قبائل میں سربراہ قبیلہ کی مرضی و منشا کے نہ کوئی فیصلہ ہو سکتا ہے نہ کوئی بات۔ سربراہ قبیلہ جس بات کا حکم دے دے یا فیصلہ کر لے، شرکا قبیلہ کا یہ فرض سمجھاجاتا ہے کہ اس کی تاےئد بھی کرے اور اسے مانے بھی اور اس کا جیسے بن پڑے دفاع بھی کرے۔ایسے میں نیا دماغ نئی سوچ اور انقلاب کہاں سے آئے۔ اور عا م عوام اور پاکستان کو کیسے فائدہ پہنچئے۔